Back to List

किनारे खड़ा था भला आदमी

रमेश 'कॅंवल' की दिलकश ग़ज़लें

हिन्दी اردو English
मुहब्बतों का शायर : रमेश 'कॅंवल'
#ग़ज़ل@رمےش 'کںول'۰۶۸
फ़اولُن फ़اولُن फ़اولُن फ़ال
کِنارے کھड़ا تھا بھلا آدمی
ندی مےں رہا ڈوبتا آدمی
سدا دوسروں پر फ़ِدا آدمی
رہا ہینتا سے گھِرا آدمی
نِکھار اُسمےں آیا ख़ُشی مےں کہاں
ग़موں مےں بِکھرتا رہا آدمی
سِیاست کی بستی مےں گُمسُم رہا
क़یادت پے اُترا نیا آدمی
اِنایات ग़َےروں پے کرتا رہا
مُسلسل سگوں کو ٹھگا آدمی
ज़مانے کی میज़ان پر جانے کیوں
رہا ग़َےروں کو تَولتا آدمی
ख़ُشی کے الم کو اُٹھاے ہُے
مِلا سوگ مےں ग़مज़دا آدمی
پِچہتتر برس ہو گے ائ وتن
نیا دےش اپنا نیا آدمی
'کںول' دےش رफ़تار مےں کھو گیا