January 2, 2020

نقرئی اجالے پر سرمئی اندھیرا ہے یعنی میری قسمت کو گردشوں نے گھیرا ہے وقت نے جدائی کے زخم بھر دئے لیکن زخم کی کہانی بھی وقت کا ہی پھیرا ہے زخم کی کہانی بھی وقت کا ہی پھیرا ہے الجھنوں کی شاخوں پر لذتوں کا ڈیرا ہے آنے والا سناٹا مستیاں اڑا دے گا…

January 2, 2020

اپنوں کے درمیان سلامت نہیں رہے دیوار و در مکان سلامت نہیں رہے نفرت کی گرد جمع نگاہوں میں رہ گئی الفت کے قدردان سلامت نہیں رہے روشن ہیں آرزو کے بہت زخم آج بھی زخموں کے کچھ نشان سلامت نہیں رہے ایسا نہیں کہ صرف یقیں در بدر ہوا دل کے کئی گمان سلامت…

January 2, 2020

زندگی ان دنوں اداس کہاں تجھ سے ملنے کی دل میں آس کہاں موسموں میں گلوں کی باس کہاں مفلسی میری خوش لباس کہاں لان سے پھول پتیاں اوجھل تیری یادوں کی نرم گھاس کہاں رتجگا پھول تارے چاند ہوا نیند بستر کے آس پاس کہاں

January 2, 2020

اک نشہ سا ذہن پر چھانے لگا آپ کا چہرہ مجھے بھانے لگا چاندنی بستر پہ اترانے لگی چاند بانہوں میں نظر آنے لگا روح پر مدہوشیاں چھانے لگیں جسم غزلیں وصل کی گانے لگا تم کرم فرما ہوئے صد شکریہ خواب میرا مجھ کو یاد آنے لگا رفتہ رفتہ یاسمیں کھلنے لگی موسم گل…

January 2, 2020

لو شروع نفرت ہوئی خیریت رخصت ہوئی بند دروازے ہوئے برہنہ وحشت ہوئی ایک لمحے کی خطا صدیوں کی شامت ہوئی ذہن کی دیوار پر مفلسی کی چھت ہوئی عطر کے بازار میں پھولوں کی شہرت ہوئی تم نصیبوں سے ملے زندگی جنت ہوئی چلنا ٹریفک جام میں اب کنولؔ عادت ہوئی

January 2, 2020

مسکراؤں گا گنگناؤں گا میں ترا حوصلہ بڑھاؤں گا روٹھنے کی ادا نرالی ہے جب تو روٹھے گا، میں مناؤں گا قربتوں کے چراغ گل کر کے فاصلوں کے دیے جلاؤں گا جگنوؤں سا لباس پہنوں گا تیری آنکھوں میں جھلملاؤں گا مہرباں ہوگا جب وہ جان کنولؔ اس کی گستاخیاں گناؤں گا

January 2, 2020

کبھی بلاؤ، کبھی میرے گھر بھی آیا کرو یہی ہے رسم محبت، اسے نبھایا کرو تمہارے جسم کے اشعار مجھ کو بھاتے ہیں مری وفا کی غزل تم بھی گنگنایا کرو تمہارے وصل کی راتوں کی لذتوں کی قسم مجھے جدائی کے منظر نہ اب دکھایا کرو قریب آؤ، ان آنکھوں کی جستجو دیکھو حیات…

January 2, 2020

غم چھپانے میں وقت لگتا ہے مسکرانے میں وقت لگتا ہے روٹھ جانے کا کوئی وقت نہیں پر منانے میں وقت لگتا ہے ضد کا بستر سمیٹیے دلبر گھر بسانے میں وقت لگتا ہے جا کے آنے کی بات مت کیجے جانے آنے میں وقت لگتا ہے آزما مت، بھروسہ کر مجھ پر آزمانے میں…